17 اگست 2010 - 19:30

صدر اسلامی جمہوری ایران، ڈاکٹر احمدی نژاد نے آج خطبات جمعہ سے قبل امام خمینی (رح) کی اکیسویں برسی کی مناسبت سے حرم امام خمینی (رح) میں نمازگزاروں اور زائرین امام (رح) کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ دنیا کی عوامی ترین حکومت ہے اور امام خمینی (رح) بھی اس نظام کو عوام کا نظام سمجھتے تھے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انقلاب اسلامی کے قائد اور اسلامی جمہوری نظام کے بانی حضرت آیت اللہ العظمی الامام السید روح اللہ الموسوی الخمینی رحمةاللہ علیہ کی اکیسویں برسی کی مناسبت سے اس ہفتے کی نماز جمعہ امام (رح) کے حرم مطہر میں منعقد ہوئی جس میں خطبوں سے قبل تقریر کرتے ہوئے صدر اسلامی جمہوریہ ایران، ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا: آج امام کا دن ہے اور امام خمینی (رح) بلاشک خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے دور کے بعد عظیم ترین اور مؤثر ترین شخصیت، عالم انسانیت کے لئے خدا کا خاص تحفہ اور مادیات کی حاکمیت کے دور میں انسان کو احیاء کرنے والے رہنما ہیں۔انھوں نے کہا: آج بہترین ذکر امام کا ذکر اور آپ کی خصوصیات کو یاد کرنا ہے اور آج امام اور امام کی تحریک کی وجہ سے نہ صرف ایران نہ صرف ایران بلکہ پورا عالم جوش و خروش کی حالت میں ہے۔ انھوں نے کہا: امام (رح) کی سب سے اہم خصوصیت خدا پر ایمان و توکل سے عبارت تھی اور امام (رح) نے ہمیں سکھایا کہ اخلاص کامیابی اور سعادت کا رمز ہے اور امام کی قوت و تفوق کا رمز خدا پر توکل تھا۔ وہ خدا کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتے تھے اور مادی قوتوں کو تسلیم کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہا: امام کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ وہ انبیاء الہی کے راستی پر گامزن تھے اور اپنے مشن  کو انبیاء (ع) کے مشن کا تسلسل سمجھتے تھے جبکہ انبیاء کا مشن عالمگیر اور آفاقی تھا چنانچہ ہمارے انقلاب کا مشن بھی عالمگیر اور آفاقی ہے اور امام پوری انسانیت کو نجات دینے کا مقصد لے کر اٹھے تھے اور وہ ایران کی سعادت و خوشبختی اور انسانیت کی نجات کو ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھتے تھے۔ صدر نے کہا: امام خمینی (رح) نے توکل علی اللہ کے سائے میں خوداعتمادی کی روح زندہ کر دی اور اقوام کو ان کے عجز اور عدم اہلیت کا باور کرانے والی شیطانی طاقتوں کی سامنے انسان کے مقام و عظمت کو زندہ کردیا۔ آج ملت ایران کے فرزند اور یہ ملت اسی راہ پر گامزن اور ولایت سے دلبستہ ہوکر علم و تمدن و سیاست کی سیڑھیاں یکے بعد دیگرے چڑھ رہی ہے اور امام (رح) ہی نے ہمیں سکھایا کہ ہم یہ ساری مہمات سر کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا: امام (رح) کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ عدل و انصاف کے خواہاں تھے اور آپ عدل و انصاف پر ڈٹ جانے اور ظلم و امتیازی رویوں کا مقابلہ کرنے کو ہی معاشرتی ارتقاء کا رمز سمجھتے تھے اور استکبار کے خلاف جدوجہد کو دینداری کی ذات کا جزء سمجھتے تھے اور ان کی اور ان کے انقلاب کا بنیادی تفکر عالمی اور آفاقی تھا۔ احمدی نژاد نے کہا: امام (رح) نے دانشمندی سے عالمی تسلط پسندوں کی بقاء کا راز ڈھونڈ لیا اور اپنی توجہ اقوام کی قوت پر مرکوز کرکے انسانیت کی نجات کے راستے کھول دیئے اور عاقبت اندیشی اور باریک بینی و کیاست کے ساتھ صہیونی ریاست کو عالمی تسلط خواہوں کا سب سے بڑا اوزار قرار دیا اور اس جعلی ریاست کا دائمی مقابلہ کرنے پر تأکید فرمائی۔ انھوں نے کہا: عالمی تسلط پسندی کے نظام کا خاتمہ اس کی ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹ جانے پر منحصر ہے اور آج پوری دنیا اس حقیقت کا مشاہدہ کررہی ہے اور ساری دنیا امام خمینی (رح) پر درود و سلام بھیجتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا: امام (رح) کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ عوام کے لئے احترام کے قائل تھے۔ وہ عوام کی تشخیص کے لئے احترام کے قائل تھے اور ان کو یقین تھا کہ ملک کے انتظام میں عوام کا کردار بنیادی ہے۔ انھوں نے انقلاب اسلامی کی کامیابی سے لے کر اب تک کے تیس سالہ عرصے میں ایران میں تیس انتخابات اور گذشتہ سال کے صدارتی انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دنیا کے عوامی ترین انتخابات ایران میں منعقد ہوتے ہیں اور دنیا کی جمہوری ترین حکومت اسلامی حکومت ہے۔ صدر نے کہا: گذشتہ سال کے انتخابات میں چارکروڑ عوام یعنی حق رائے دہی رکھنے والوں میں سے 85 فیصد افراد نے سو فیصد آزادانہ منعقد ہونے والے انتخابات میں شرکت کرکے دنیا میں جمہوریت کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے اور ان انتخابات میں ڈھائی کروڑ عوام نے خادم (مجھ) کو ووٹ دیا جبکہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے سارے چار کروڑ عوام قابل احترام ہیں۔ انھوں نے کہا: کچھ لوگ گذشتہ تیس برسوں کے دوران اپنے آپ کو اس ملک کا مالک سمجھتے تھے اور جس وقت عوامی رائے ان کے حق میں تھی تو یہ رائے قابل احترام تھی مگر اگر عوام کسی دوسرے شخص کو ووٹ دیتے ہیں تو ان کے خیال میں یہ ووٹ قابل احترام نہیں ہے۔ صدر مملکت نے کہا: عوام کی خدمت کا جذبہ اور عوام کے ساتھ ہوکر رہنا، بھی امام (رح) کی اہم خصوصیت  ہے چنانچہ یہ بھی امام (رح) کی شخصیت کے معیاروں میں سے ایک ہے؛ آپ اپنا تعارف عوام کے خادم کی حیثیت سے کراتے تھے اور بعض شخصیات کی اشرافیت اور شاہانہ خصلتوں اور شاہانہ طرز زندگی کے خلاف جدوجہد میں مصروف رہتے تھے اور آپ اشرافیت کے ظہور کے مد مقابل ڈٹے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا: بعض لوگ بیت المال سے فائدہ اٹھا کر اپنے لئے شاہانہ زندگی کے وسائل فراہم کرتے ہیں اور یہ امر عوام کے نزدیک قابل مذمت ہے اور امام (رح) کا کہنا تھا کہ اسلامی نظام عوامی طبقوں سے تعلق رکھتا ہے اور امام (رح) کسی کے لئے امتیازی مراعات کے قائل نہیں تھے اور امام (رح) کے عقیدے کے مطابق کسی کو بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے آپ کو انقلاب کا مالک سمجھنا شروع کرے اور اپنے لئے خاص مراعاتوں کا قائل ہوجائے۔ انھوں نے کہا: امام (رح) اور انقلاب کا تعلق ملت سے ہے اور کسی کو بھی حق نہیں پہنچتا کہ خود کو امام (رح) اور مکتب امام (رح) کا انحصاری وارث قرار دے۔ انھوں نے کہا: یہ تاریخ کے عجائبات میں سے ہے کہ کچھ لوگ دشمنوں، شہنشاہیت پسندوں اور منافقین کی صف میں کھڑے ہوکر امام (رح) کے تمام اصولوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کوشاں ہوں اور ساتھ ساتھ مکتب امام (رح) کی پیروکاری اور اس مکتب کی انحصاری مالکیت کا دعوی بھی کریں اور اس سے بھی زیادہ عجیب یہ ہے کہ یہ لوگ عوام سے توقع کریں کہ ان کا یہ جھوٹا دعوی قبول کرلیں۔ انھوں نے کہا: امام (رح) مغرب کے طرز پر فکری بےراہروی، علمانیت، لبرلزم  اور جدت پسندی کے نام پر تشخص کھودینے کے مخالف تھے اور ساتہ ہی آپ تحجر اور رجعت پسندی سے بھی بیزاری کا اعلان کیا کرتے تھے۔ انھوں نے کہا: امام (رح) اسلامی نظام اور نظام کی حیثیت کا تحفظ امام (رح) کے نزدیک واجب ترین واجب ہے اور میں معافی چاہتا ہوں کہ بعض باتیں زبان پر لارہا ہوں لیکن جو لوگ حرمت کے قائل نہیں ہوتے اور قسم خوردہ دشمنوں سے مل کر نظام کا چہرہ بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں وہ مکتب امام (رح)  کی پیروی کا دعوی نہیں کرسکتے۔ امام (رح)  نے ایسے نظام کی بنیاد رکھی جو اپنے اندر سے ہی ملاوٹوں کا صفایا کردیتا ہے اور جو بھی اس نظام سے دور ہوجائے گا قوم اس کو اپنے طاقتور ہاتھوں کے ذریعے دور پھینکتی ہے۔ انھوں نے صہیونی ریاست کی کسی بھی ممکنہ شرارت کے سلسلے میں اس ریاست کو خبردار کیا کہ اس کی جانب سے کسی بھی قسم کا جارحانہ اقدام اس ریاست کی قطعی موت اور نابودی کے مترادف ہوگا۔ انھوں نے ملت ایران کے بیرونی دشمنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دفاع مقدس کے ایام میں ہماری مظلومیت کی صدا دنیا کے کسی بھی مقام پر نہیں سنی جاتی تھی مگر آج یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ استکباری نظام رو بہ زوال ہے۔ اور آج یہ نظام ایران کے اسلامی جمہوری نظام کو سازشوں کے ذریعے ختم کرنے کی بجائے خود جمود اور انفعال سے دوچار ہے اور یہ ظالمانہ نظام اللہ کے فضل سے بکھر جائے گا اور کوئی بھی اس کو نجات نہیں دے سکے گا۔انھوں نے کہا: آج امام (رح) کا نام، آپ کی یاد، آپ کا مکتب اور آپ کی سیرت ماضی سے کہیں زیادہ وسیع سطح پر دمک رہی ہے اور حضرت امام (رح) اور آپ کے نظریات پر قائم ہونے والے نظام کا سورج پوری دنیا میں نورافشانی کررہا ہے اور امام کے اہداف و مقاصد آج کروڑوں حریت پسندوں کے دل کی آواز بن گئے ہیں۔ انھوں نے کہا: بعض لوگوں کا خیال تھا کہ انقلاب اسلامی آخری مشن کا آغاز ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ انقلاب آخری مشن کے متن میں واقع ہے اور یہ مشن شروع ہوگیا ہے اور بہت جلد کامیاب ہوجائے گا۔ انھوں نے کہا: مستکبروں کے لئے ایک ہی راستہ باقی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ حق کے سامنے سر تسلیم خم کریں اور دنیا کی اقوام سے مل کر رہیں۔صدر نے کاروان آزادی پر صہیونی حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج پوری انسانیت حرکت میں آگئی ہے اور صہیونیوں نے تو بظاہر کاروان آزادی کو روک لیا ہے لیکن سب کو جان لینا چاہئے کہ اللہ کے فضل سے بہت جلد دنیا بھر سے صلح اور آزادی کے ہزاروں کاروان دنیا کے حریت پسندوں کے توسط سے روانہ ہونگے جو صہیونیت کی بساط لپیٹ کر پوری عالم انسانیت کو عدل اور حریت کا تحفہ دیں گے۔ انھوں نے کہا: صہیونی جرائم کا سبب ان کا ضعف و کمزوری اور دیوانگی ہی ہے اور لگتا ہے کہ وہ اپنے اعصاب پر پر قابو رکھنے کے اہل نہیں رہے ہیں سوچنے کی صلاحیت کھوگئے ہیں اور ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وہ اس وقت اپنی گذشتہ ناکامی کی تلافی کی غرض سے غزہ پر ایک بار پھر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ دنیا کی قوموں کے نزدیک منفورترین ہیں؛ کاروان آزادی پر حملہ دنیا کے ممالک کی شرافت پرکھنے کا معیار بن گیا ہے اور مجھے امید ہے کہ جن لوگوں نے اچھا موقف اپنایا ہے وہ اپنے موقف پر قائم رہیں اور امریکی حکومت بھی جاننے کی کوشش کرے کہ ان کا موجودہ موقف جناب اوباما کی ناکامی کی جانب ایک بڑا قدم ہے جس کے بعد اوباما کے پاس کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا اور نتیجتاً امریکی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ انھوں نے صہیونی ریاست کے حامیوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: ملت فلسطین کے حقوق کو محترم سمجھو اور جس طرح تم نے صہیونی ریاست کی بنیاد رکھی اسی طرح کی اس کی بساط لپیٹ دو ورنہ اقوام کا ہاتھ اس ریاست کی بساط لپیٹ لے گا اور اس ریاست کے حکمرانوں پر مقدمہ چلائے گا۔ انھوں نے کہا: آج امام (رح) کی تحریک اور عوام و قیادت کی استقامت کی برکت سے دنیا کی تمام ملتیں بیدار ہوگئی ہیں اور انسانوں کی عظیم لہریں مصلح کل مہدی موعود علیہ السلام کی امامت میں روئے زمین پر عدال و انصاف اور صالحین کی حکومت کے قیام کے لئے تیار ہورہے ہیں اور عالمی استکباری نظام رو بہ زوال ہوچکا ہے۔صدر اسلامی جمہوریہ نے امام خمینی رحمةاللہ علیہ کی ساتہ تجدید عہد کرتے ہوئے کہا: اے امام! ہم آپ کے ساتھ عہد کرتے ہیں کہ ہم اس مقدس عشق کا نسل در نسل تحفظ کریں گے اور اسے بعد کی نسلوں کے حوالے کریں گے اور دنیا میں ہمارے مولا کی امامت میں قائم ہونے والی حکومت عدل تک آپ کے مکتب کے راستے کی حفاظت کریں گے اور اس راستے پر گامزن رہیں گے اور آنے والی نسلیں موجودہ نسل کی نسبت زیادہ کامیاب، زیادہ سے زیادہ عاشق اور پرعزم میدان عمل میں حاضر ہیں اور فیصلہ کن انداز میں آپ کے اصولوں کی حفاظت کریں گے۔ اے امام! دنیا پرست بی بنیاد آرزوؤں کے ساتھ دین اور ملت کے حقوق لوٹنے والوں کے مد مقابل آکھڑے ہوئے ہیں اور ہم آپ کے فرمان پر اپنے پورے وجود کے ساتھ ان کی بے بنیاد اور بے مقصد دنیا کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اور ہم مح